If you are kind, people may accuse you of selfish, ulterior motives,

Be kind Anyway.

If you are honest and simple,people may cheat you;

Be honest and Simple Anyway

If you are successful, You will win false friends and true enemies;

Succeed Anyway

If you find Serenity and happiness; they may be jealous;

Be Happy Anyway

If you do good today; people will often forget tomorrow .

Do Good Anyway

If you help needy people, they may attack you;

Help people Anyway

Give the world the best you have and you may be kicked in the teeth;

Give the world the best you have Anyway;

You see in the final analysis, it is between you and your Almighty;

It was never between you and them Anyway.

#Thanks for reading # 😊


Countenance is state of mind when one feels calm in expression and mental composure. It is very much part of faith (Emaan).It is blessing of Almighty Allah swt on His slaves. It is mystic quality and spiritual aspect of Emaan. In simple terms, it can be related to austerity and simple living.

On the basis of my contemplation, I have connoted following attributes of person who possess countenance:-

*the person possess calm mental and facial expression even during his periods of extreme agony.

*the person feels satiated even when he is devoid of all material pleasures and possessions.

*he is satisfied and content irrespective of what his peers and coworkers have achieved.

*No remorse or resentment against Almighty ,nevertheless of his unfilled prayers and wishes.

*the person possess humility and is down to earth, irrespective of his social status and profile.

It is because, the person who is bestowed with this sufi quality has full faith and convection that this :

#world is Test and Deception.

#Almighty is best planner. There is hidden wisdom in His volition and plans.

#this world is transient and ephemeral. It is bound to perish.

#sufferings and injustices are temporary.

#Every wound will be healed and every injustice would be litigated and punished on the judgement day.

#worldly belongings and possessions are given by Lord to test His slaves.


Thoughts presented are personal. Your opinion about the topic are valuable. Feel free to share them with me so that we can learn from each other.

#thanks for reading ☺#

اب کے دنیا میں عجب ڈھنگ سے عید آئی ہے۔۔

اب کے دنیا میں عجب ڈھنگ سے عید آئی ہے

کوئی تکبیر، نہ تہلیل و جبیں سائی ہے


ڈر کا عالم ہے، اداسی کے ہیں ڈیرے ہر سو

وحشت و خوف کا ماحول ہے، تنہائی ہے


کوئی عیدی، نہ مٹھائی، نہ کھلونے، اے عید

نونہالوں کے لئے تحفے میں کیا لائی ہے؟


منہ چھپائے ہوئے جو دُور سے کرتا ہے سلام

اجنبی سمجھا تھا جس کو وہ میرا بھائی ہے


عید پر روٹھے ہوؤں سے بھی گلے ملتے ہیں

اب کے پیاروں سے بھی دُوری میں یہ دانائی ہے


ایسے کترا کے نکلتے ہیں گھروں سے جیسے

اپنی دہلیز نہیں، کوچۂ رسوائی ہے


یوں ہے احباب سے کچھ شوقِ ملاقات کا حال

پیش قدمی میں تذبذب بھری پسپائی ہے


دبکے بیٹھے ہیں سبھی جیسے قفس میں بلبل

کوئی محفل، نہ کوئی انجمن آرائی ہے


چار جانب تو ہے بے رنگ وبا کی آندھی

سر پہ افلاس کی بھی سرخ گھٹا چھائی ہے


ساری دنیا میں کرونا ہی ہے موضوعِ خبر

ساری دنیا میں ہر اک چیز کرونائی ہے


مبتلا خوف میں ہے وہ جو ابھی ہے محفوظ

وہ بھی بیمار ہے جس جس نے شفا پائی ہے


ہے دعا بھیج کسی عیسیؑ نفس کو یا رب

خلق سب منتظرِ دستِ مسیحائی ہے


#copied #hope u enjoy it 😊#

Eid Mubarak 💞💞

Saba Niaz siddique

The sacred Ramadan bid adieu

The blessings of Eid are gift of Ramadan

Convivial days among us

To cherish the bounties of love

Everyone is grateful to Allah

For showering His blessings upon us

Forget all difference let’s embrace our hearts with love

Because, formality is not needed for purity

Counting crispy bills are the kids

Mirth is oozing from their visage when they are making plans with friends

Parks are closed but they are not banned to share the joy of Eid with all the friends

Wrapping gifts for the ones

Whose bread and butter is nothing but pray

Sharing happiness makes it double

That is the rule they know by heart

Add some pleasure in lives of others

It is the call of this toughest hour

Make this Eid joyous for others

By sharing the bounty of love and bliss

We are far but close at heart


View original post 34 more words

Soul Searching!

Life is not a smooth ride. It is stud with stumbling blocks and number of obstacles.

Initially,we set goals and milestones in our life and for them to achieve we put our best efforts and invest much of our “energyandtime“.

If we fail to achieve these ends we feel dejected and disillusioned. But we must realise that failures are as much as part of life as successes.

Believe me, failures are much more important than successes. They make our life more meaningful and worth living. Failures are stepping Stones of success. They are blessings in disguise.

But to tap and harness these blessings, there is need of introspection of oneself. This introspection can be given the name SOUL SEARCHING. It envisages and inculcates:-

*Capability to accept our failure and bearing it with grin ☺.

*The introspection of our past mistakes and hence learning from them.

* to behold and uphold of our faith in Almighty Allah and his will.

*Strengthen our belief in decree and destiny written by our Lord for ever living creature in this universe.

*Mental calibre and will power to strengthen our soul and body ;then baptise them with the holy teachings of Quran and Sunnah.

*synchronize and streamline our thought and action.

*striving for self improvisation.

*the ways and means to vent out negative emotions and fear.

*To embolden our confidence and grit.

*boosting of our morale and self-belief.

*doing all that which diminishes negativity from us and replaces it with positivity, nevertheless, how minute and subtle that action may be .

It is only then we can then turn the table in our favour. Soul-searching should be continuous process. We should not stop as soon as we achieve our goal.

We must remember that :

” winning is an event and being a winner is a spirit”.Before winning one will have to imbibe this spirit, that is, deserving it and then getting it. ”

#thanks ❤#

اُردو ادب کے دورِاولین کی شاعرات!

اردو زبان کا آغاز شمالی ہندوستان میں بارویں صدی کے آخری دہائی میں ہوا جب مسلمان ہندوستان کی سرزمین میں وارد ہوئے ۔مسلمان حکمرانوں کی سرپرستی اور لوگوں کے میل جول سے اس زبان نے خوب فروغ پایا اور اپنے ارتقاء کو پہنچ کر، ترقی کی کئی منزلیں طے کیں۔

اردو ادب کے ابتدائی دور میں نثر کے مقابلے میں شاعری کو خوب فروغ حاصل ہوا جس کی وجہ سے شاعری کے بڑے بڑے ادیب سامنے آئے جنہوں نے اپنی قابلیت اور صلاحیت سے اردو شاعری میں اپنی چھاپ چھوڑی ۔ان میں امیرِخسرو ،محمد قلی قطب شاہ، نصرتی، غواصی، ملا وجہی وغیرہ جیسے نام شامل ہیں۔

جہاں تک خواتیں کا تعلق ہے، اردو ادب کے ابتدائی دور میں خواتین کی تعلیم و تربیت پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی ۔جس کی وجہ سے وہ بہت مدت تک اردو زبان و فن سے قاصر رہیں۔لیکن رفتہ رفتہ حالات بدل گئے اور عورتوں کی تعلیم و تربیت پر زور دیا گیا ۔انہیں اردو تلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کے لئے اقدام اٹھائے گئے ۔اس ادبی کاوش و تحریک سے بہت سے شاعرات سامنے آئیں۔اس ضمن میں کچھ خواتین ایسی ہیں جنہیں اردو کی اولین شعراء کہا جاسکتا ہے۔ان کے نام ماہ لقاچندابائی اور لطف النساء بیگم ( امتیاز تخلص) ہیں۔

عرصے تک ماہ لقاچندابائی کو اردو کی پہلی شاعرہ سمجھا جاتا رہا، لیکن دیوانِ امتیاز دست یاب ہو جانے کے بعد پہلی صاحب ِ دیوان شاعرہ ہونے کا سہرا امتیاز کے سر جاتا ہے۔

ماہ لقاچند ابائی کا ذکر تو کئی مرتبہ کیا گیا ہے۔لیکن لیکن لطف النساء کے بارے میں کوگ بہت کم جانتے ہیں۔سب سے پہلے دکن کے ادیب نصیرالدین ہاشمی نے اپنی کتاب “دکن میں اردو”میں ان کا ذکر کیا ہے۔

لطف النساء کا تعلق دکن حیدرآباد سے تھا ۔تخلص امتیاز تھا۔ان کے حالات ِزندگی کے بارے میں جو بھی معلومات دستیاب ہیں وہ ان کے دیوان میں موجود مثنوی سے ملتا ہے۔اردو ادب کے لیے امتیاز کا یہ دیوان انمول عطیہ ہے۔وہ قادرالکلام اور پُرگو شاعرہ تھیں۔انہوں نے خود کو غزل تک محدود نہیں رکھا بلکہ اردو شاعری کی ہر صنف میں طبع آزمائی کی۔اور مکمل کلیات یادگار چھوڑی ہے۔ ان سے منسوب ایک شعر یوں ہے۔

ہے زیب آور تخت وہ تاجدار

سکندر مثال و سلیمان عصر.

امتیاز کے دیوان میں شامل مثنوی کے علاوہ قصیدہ، مسدسات، قطعات، رباعیات، فارسی غزل و قطعہ بھی شامل ہیں۔

ماہ لقاچندابائی۔۔

بہت عرصے تک ماہ لقا کو اردو کی پہلی شاعرہ سمجھا جاتا رہا۔لیکن دیوانِ امتیاز دستیاب ہوجانے کے بعد پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ کا خطاب امتیاز کے سر جاتا ہے۔محققین کے مطابق ماہ لقا کو اردو ادب کی خواتین میں دوسرا درجہ دیا جاتا ہے۔

وہ اپنے زمانے کی مشہور شاعرہ تھیں ۔پورا نام ماہ لقا چندابائیتھا اور تخلص چندا کرتی تھیں۔وہ 1178ء میں پیدا ہوئی۔شعر وشاعری میں اعلیٰ درجے کا ذوق تکھتی تھیں۔اس کے علاوہ موسیقی میں بھی مذہارت رکھتی تھیں۔

اس کے دیوان سے کچھ اشعار درج ذیل ہیں۔

آتا نہیں ہے خواب میں بھی یار اب تلک

ہیں منتظر کی دیدہء بیدار اب تلک۔

ماہ لقا اپنے دور کی نہایت اعلیٰ درجے کی باذوق شاعرہ تھیں ۔وہ نہایت خوبصورت، حسین وجمیل رقاصہ تھیں۔

اس طرح مجموعی طور پر ہم کہ سکتے ہیں کہ ماہ لقا اور لطف النساء، دونوں کا شمار اردو ادب کی اولین شاعرات ہوتا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں کا ایک ہی دور تھا۔

شوخ. ۔

اصل نام گنابیگم تھا۔لیکن شوخ تخلص کرتی تھیں۔شعر و شاعری کا شوق بچپن سے تھا۔شوخ کے کلام سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ نہایت اعلیٰ اور فطری شاعرہ تھیں۔ان کے کلام میں شوخی اور بزلہ سنج کے تمام لطف موجود ہیں. چند اشعار ملاحظہ ہوں:

نیم بسمل نہ چھوڑ جانا تھا

ہاتھ ایک اور بھی لگانا تھا


نام بادشاہ بیگم تھا، لیکن تخلص حقی کرتی تھیں۔بقول تزکرہ نویس چمن انداز حقی کو اردو، فارسی اور انگریزی زبانوں پر دسترس تھی اور تینوں زبانوں میں شاعری بھی کرتی تھیں۔۔نیز وہ خوش نویس بھی تھیں۔شعر و شاعری میں لوگوں کی اصلاح بھی کرتی تھیں۔ان سے منسوب چند اشعار ملاحظہ ہو۔

خود شوق اسیر سے ھنسے دام میں صیاد

شرمندہ تیرے ایک بھی دانے کے نہیں ہم۔


ان کا پورا نام سپرا آرا خاتون تھا اور تخلص پنہاں کرتی تھیں۔بریلی سے تعلق رکھتی تھیں۔اردو، فارسی، اور انگریزی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔۔دس سال کی عمر سے ہی لکھنا شروع کیا۔ان کے چند اشعار درج ذیل ہیں۔

سیہ ہے ایک یاس کا صحرا لیے ہوئے

دل رنگِ گلستان تمنا لیے ہوئے ۔

ہے آہ درد و سوز کی دنیا لیے ہوئے

طوفان اشک خوں گریاں لیے ہوئے ۔

یہ اشعار انہوں نے اپنے والد کی وفات پر کہے تھے

جن سے ان کے رنج وغم کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔


اصل نام امراؤ بیگم تھا اور تخلص عابدہ اختیار کرتی تھیں۔انہیں اردو اور فارسی، دونوں زبانوں پر قدرت حاصل تھی ۔تحقیق کے مطابق انہوں نے اردو اور فارسی، دونوں میں دیوان چھوڑے ہیں۔ان کا ایک شعر یوں ہے۔

یہ کرامت اس کی ہے جو پا کہ خود فرما دیا

تاقیامت رحمت باری خلاق باری قبر کو۔


ان کا نام سید سردار بیگم اور تخلص اختر تھا۔وہ اردو ادب کی ایک قابلِقدر ادیبہ، بہترین مقرّرہ اور نہایت خوش گو شاعر ہ تھیں۔ادب کے علاوہ ان کی دلچسپی سیاست میں بھی تھی۔ اختر نے اپنی شاعری کے ذریعے پیام و اصلاح کاا کام لیا۔وہ علامہ اقبال کے کلام سے بہت زیادہ متاثر تھیں۔۔انہوں نے غزلیں اور نظمیں، دونوں اچھی خاصی تعداد میں لکھی ہیں۔

ان کے علاوہ اور بھی شاعرات ہیں جنہوں نے اردو ادب کے ابتدائی دور میں اس زبان کے فروغ میں نمایاں کارنامہ انجام دیا۔اردو زبان آج جس تناور درخت کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے، اس کی سینچائی مردوں کے شانہ بہ شانہ خواتین قلم کاروں نے بھی انجام دیں۔

Create your website at
Get started